صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا

اژدھا
۔۔۔۔
میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا
بدل گیا
یہ کیسی شکل ہے
میں جس میں ڈھل گیا
کہ میرے خد و خال ہیں،
وہی جو تھے
مگر مرا نظام انہضام اب بدل گیا

میں اپنے وقت کا ہوں کوئی اژدھا
اگر نہیں تو گزرے وقت کا
میں کوئی ڈائنوسار ہوں

میں دشت میں لگے ہوئے
اک ایک پیڑ کی ہر ایک شاخ تک کو کھا گیا
پیٹ پھر نہیں بھرا
تو کوئلے کی کان بھی
جو راہ میں پڑی ہر اک چٹان بھی
چبا گیا

ہزارہا جتن سے بھی
بھوک جب نہیں مٹی
تو ایک دن
میں خود ہی اپنے آپ کو نگل گیا

Related posts

Leave a Comment